پاکستان میں دل کی بیماریاں ہر سال 4 لاکھ جانیں لے رہی ہیں — ماہرین کا انتباہ
پاکستان میں دل کے امراض ایک خاموش قاتل کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ پاکستان کارڈیک سوسائٹی (PCS) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ملک میں سالانہ تقریباً 4 لاکھ اموات دل کی بیماریوں کے باعث ہو رہی ہیں، جو کل اموات کا 30 فیصد سے بھی زیادہ بنتی ہیں۔
یہ چشم کشا اعداد و شمار سکھر میں منعقدہ ایک اہم سیمینار “لیڈرز ٹریک” کے دوران ماہرین صحت نے پیش کیے۔
❤️ نوجوان بھی دل کے امراض کی زد میں
ایک چونکا دینے والی حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ اب صرف بوڑھے افراد ہی نہیں بلکہ 30 سے 40 سال کی عمر کے نوجوان بھی دل کی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق:
“یہ بحران اب صرف عمر رسیدہ افراد تک محدود نہیں رہا، بلکہ نوجوان نسل تیزی سے دل کی بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے، جو ایک قومی المیہ بن سکتا ہے۔”
📉 روک تھام علاج سے بہتر ہے
ماہرین صحت نے اس بات پر زور دیا کہ:
- دل کی بیماریوں کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے
- ہمیں روک تھام (Prevention) پر توجہ دینی چاہیے
خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں صحت کی سہولیات ناکافی ہیں۔
🔍 دل کی بیماریوں کی وجوہات — کس پر توجہ دی جائے؟
1. بیٹھے بیٹھے گزرنے والی زندگی
موٹاپا، ورزش کی کمی اور مسلسل بیٹھے رہنے سے جسمانی نظام کمزور ہوتا ہے۔
2. ناقص غذا
چکنائی، نمک اور چینی سے بھرپور خوراک دل کے لیے زہر ثابت ہو سکتی ہے۔
3. تمباکو نوشی
سگریٹ اور نسوار کا استعمال شریانوں کو بند کر کے دل کا دورہ بڑھا دیتا ہے۔
4. ذہنی دباؤ
مسلسل اسٹریس اور بے چینی بلڈ پریشر کو بڑھا کر دل پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
5. آگاہی کی کمی
دیہی اور پسماندہ علاقوں میں صحت سے متعلق شعور کی شدید کمی ہے۔
📢 حل کیا ہے؟ — عوامی سطح پر آگاہی مہم ضروری
رپورٹ کے مطابق، اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے 10 سالوں میں دل کی بیماریوں کی شرح دگنی ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ:
- اسکول اور کالج لیول پر دل کی صحت سے متعلق آگاہی مہم شروع کی جائے
- ورزش، غذا اور تمباکو نوشی کے اثرات پر سوشل میڈیا کیمپینز چلائی جائیں
- دیہی علاقوں میں موبائل ہیلتھ یونٹس متعارف کروائے جائیں
نوٹ:
استعمال کی گئی تصاویر اے آئی (AI) پر مبنی ہے اور صرف حوالہ جاتی مقصد کے لیے شامل کی گئی ہے۔




