مغربی افریقی ملک برکینا فاسو کی فوجی حکومت نے ایک اہم اور سخت فیصلہ کرتے ہوئے ہم جنس پرستی کو باقاعدہ جرم قرار دے دیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت ایسے افراد کو 2 سے 5 سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہوگی، جبکہ غیر ملکی شہریوں کو سزا مکمل کرنے کے بعد ملک بدر بھی کیا جائے گا۔
سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت کے 71 غیر منتخب ارکان نے اس بل کو متفقہ طور پر منظور کیا، جس کے بعد یہ قانون فوری طور پر نافذالعمل ہوگیا۔
وزیرِ انصاف اداسو روڈریگ بایالا نے اعلان کیا کہ برکینا فاسو اب ان افریقی ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے جہاں ہم جنس پرستی کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں۔ یاد رہے کہ مالی، یوگنڈا اور گھانا بھی اسی نوعیت کے قوانین منظور کرچکے ہیں۔ یوگنڈا میں تو اسے سزائے موت کے قابل جرم قرار دیا گیا ہے، جبکہ گھانا نے اپنے قوانین کو مزید سخت بنا دیا ہے۔
موجودہ حکومت، جس کی قیادت صدر ابراہیم تراورے کر رہے ہیں، 2022 میں دو فوجی بغاوتوں کے بعد قائم ہوئی تھی۔ یہ اقدام نہ صرف مقامی سطح پر حمایت حاصل کر رہا ہے بلکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور مغربی ممالک کی جانب سے اس پر شدید تنقید بھی متوقع ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ یہ قانون انسانی آزادیوں کے منافی ہے اور بنیادی حقوق پر قدغن لگاتا ہے۔
یہ قانون افریقی معاشروں میں جاری اس بحث کو مزید شدت دے گا کہ کس طرح مقامی روایات اور مذہبی اقدار کو عالمی انسانی حقوق کے بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔




