غزہ — برطانوی اخبار گارڈین کی نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں خوراک کی تقسیم کے دوران فلسطینی شہریوں کو بظاہر منظم فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً 1,400 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
پس منظر
مئی 2025 میں اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی چلنے والے انسانی ہمدردی کے امدادی نظام کو ختم کر کے ایک نیا ڈسٹری بیوشن ماڈل متعارف کرایا، جسے غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن (GHF) کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ یہ ادارہ اسرائیلی حکام سے قریبی تعلقات اور اپنے “فوجی طرز کے ماڈل” کے باعث شروع دن سے ہی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید کی زد میں رہا، جنہوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ نظام انسانیت، غیر جانبداری اور شفافیت کے بنیادی اصولوں کو متاثر کرے گا۔
تشویشناک صورتحال
نئے نظام کے آغاز کے بعد سے عالمی مبصرین روزانہ کی بنیاد پر ایسے واقعات رپورٹ کر رہے ہیں جن میں خوراک لینے کی کوشش کرنے والے شہری گولیوں، شیلنگ یا بھیڑ میں دب کر جاں بحق ہو رہے ہیں۔ زیادہ تر ہلاکتیں GHF کے ڈسٹری بیوشن پوائنٹس کے قریب ہوئیں۔
فریقین کے مؤقف
میدان میں موجود صحافیوں، فلسطینی عینی شاہدین اور امدادی کارکنوں نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کے اہلکار براہِ راست شہریوں پر فائرنگ کرتے ہیں۔ تاہم، IDF اور GHF ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد مبالغہ آمیز ہے اور بھوک کی خبریں اقوامِ متحدہ کی ناکامی کا نتیجہ ہیں۔
گارڈین کی تحقیق کے اہم نکات
گارڈین کی نئی انویسٹی گیشن نے فلسطینی صحافیوں اور امدادی کارکنوں کے دیرینہ دعووں کی تصدیق کر دی ہے، جس کے مطابق اسرائیلی فورسز نے بارہا خوراک لینے والے شہریوں کو نشانہ بنایا۔ یہ تحقیق ویژول فارنزک شواہد، ویڈیوز اور عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ہے، جس میں متعدد واقعات کی جغرافیائی تصدیق بھی کی گئی۔
انسانی بحران کی سنگینی
اس تحقیق نے ایک بار پھر اس سنگین حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ غزہ میں نہ صرف خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے بلکہ شہریوں کی زندگی بھی براہِ راست خطرے میں ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔




