اسلام آباد (نیوز اسٹوڈیو) – وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کی رات ایک اہم تقریب میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان ایک نئی فوجی فورس تشکیل دے گا جو روایتی جنگ میں میزائل صلاحیتوں کی نگرانی اور آپریشن کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ یہ اقدام بظاہر ہمسایہ اور دیرینہ حریف بھارت کے مقابلے میں دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
یہ اعلان 14 اگست (پاکستان کے 78ویں یوم آزادی) سے ایک دن قبل اسلام آباد میں بھارت کے ساتھ مئی میں ہونے والے بدترین تصادم کی یاد میں منعقدہ تقریب میں کیا گیا۔
وزیراعظم کا بیان
وزیراعظم نے کہا کہ “یہ فورس جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی اور دشمن کو ہر سمت سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھے گی۔ یہ روایتی جنگی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے ایک اور سنگ میل ثابت ہوگی۔”

انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم اعلیٰ سکیورٹی حکام کے مطابق، یہ فورس پاک فوج کے ایک علیحدہ کمانڈ کے تحت ہوگی جو روایتی جنگ کی صورت میں میزائلوں کی ہینڈلنگ اور تعیناتی کی ذمہ دار ہوگی۔
بھارت کا ردعمل
ایک سینیئر سکیورٹی افسر نے کہا کہ “یہ واضح ہے کہ اس کا ہدف بھارت ہے۔”
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ردعمل میں کہا: “یہ پاکستانی قیادت کا پرانا حربہ ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے بار بار بھارت مخالف بیانیہ اپناتے ہیں۔”

پس منظر
پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور آزادی (1947) کے بعد سے اپنی فوجی صلاحیتوں کو مسلسل اپ گریڈ کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اپریل میں اُس وقت بڑھ گئی جب بھارتی کشمیر میں 26 عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔ نئی دہلی نے اس حملے کا الزام اسلام آباد پر لگایا، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا۔
مئی میں شروع ہونے والے حالیہ تصادم میں دونوں ممالک نے میزائل، ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک اب تک تین جنگیں لڑ چکے ہیں، جن میں سے دو کشمیر کے تنازع پر ہوئیں۔ کشمیر آج بھی ایسا خطہ ہے جس پر دونوں ممالک جزوی طور پر قابض ہیں لیکن مکمل دعویٰ رکھتے ہیں۔




