زرعی اراضی خریداری پر دستاویزات میں کسان ظاہر کرنے کا الزام
ممبئی: بالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ خان کے بعد اب ان کی بیٹی سہانا خان بھی قانونی مشکلات میں گھر گئی ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سہانا خان پر ممبئی کے علاقے علی باغ میں زرعی اراضی کی خریداری کے دوران قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سہانا خان نے یہ زمین 12 کروڑ 91 لاکھ روپے میں تین بہنوں، انجلی، ریکھا اور پریا سے خریدی۔ یہ زمین ان بہنوں کی وراثتی جائیداد تھی۔ سہانا نے 2023 اور 2024 میں دو پلاٹ خریدے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 22 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پلاٹس دیجاوو فارم پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام پر رجسٹرڈ کیے گئے ہیں، جس کی مالک شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان کی والدہ اور بھابھی ہیں۔
دستاویزات میں مبینہ جعلسازی
رپورٹس کے مطابق زمین کی خریداری کے وقت سہانا خان کو دستاویزات میں مبینہ طور پر فارمر (کسان) ظاہر کیا گیا ہے، حالانکہ وہ زراعت کے پیشے سے وابستہ نہیں ہیں۔ بھارتی قوانین کے مطابق زرعی اراضی صرف کسان ہی خرید سکتا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ اب قانونی پیچیدگی اختیار کر گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بحث
اس خبر کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ سہانا خان کو ’’اثر و رسوخ‘‘ استعمال کرنے کے الزام پر جواب دہ ہونا چاہیے، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک قانونی تکنیکی مسئلہ ہے جسے باقاعدہ کاغذی کارروائی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان بھی ممبئی ڈرگس کیس میں قانونی مشکلات کا سامنا کر چکے ہیں، اور اب سہانا خان کی یہ خبر خان فیملی کے لیے نئی مشکل بن کر سامنے آئی ہے۔




