اسلام آباد (نیوز اسٹوڈیو) – افغانستان کی طالبان حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں مشرقی صوبوں ننگرہار اور خوست میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے، جبکہ کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔
طالبان وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کو ’’اشتعال انگیز اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے کابل میں پاکستانی سفیر کو طلب کرلیا۔

❗ مقامی گواہوں کا بیان
ننگرہار کے ضلع شینوری میں ایک گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ مقامی شہری شاہ سوار نے بتایا:
’’پہلا بڑا بم میرے گھر پر گرایا گیا۔ میرا گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ میں نے ملبے سے پہلے ایک بچے کو نکالا، پھر مزید چار بچوں اور ایک خاتون کو باہر نکالا۔‘‘

🚁 ڈرون حملے کا الزام
ننگرہار کے ڈپٹی گورنر مولوی عزیز اللہ مصطفیٰ کے مطابق یہ حملے پاکستانی ڈرونز کی جانب سے کیے گئے۔ طالبان وزارتِ خارجہ کے مطابق ننگرہار اور خوست میں مجموعی طور پر 3 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے۔
🔎 پس منظر
- دسمبر 2024 میں بھی کابل نے پاکستان پر پکتیکا صوبے میں فضائی حملوں کا الزام لگایا تھا۔
- پاکستان نے ان حملوں کی تصدیق نہیں کی تھی، تاہم بعدازاں کابل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں حملوں کا دعویٰ کیا۔
- حالیہ ہفتے میں پاکستان، چین اور افغانستان کے اعلیٰ سفارتکاروں نے کابل میں ملاقات کرکے دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔

🤝 پاکستان اور افغانستان کے تعلقات
دونوں ممالک کے تعلقات 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کشیدہ ہیں۔
- پاکستان کا الزام ہے کہ طالبان تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کو پناہ دیتے ہیں۔
- کابل ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتا۔




